حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، صوبۂ گجرات کے معروف و مشہور دینی تعلیمی مرکز حوزہ علمیہ امام حسن عسکری علیہ السلام کانودر ضلع بناس کانٹھا میں طلبہ و اساتذہ کی جانب سے ایک عظیم الشان اعزازی تقریب منعقد ہوئی، جس سے مولانا ابن حسن املوی نے خطاب کیا۔

تاریخ شاہد ہے کہ اسلام کے ابتدائی دور میں ہی دینی مدارس کی داغ بیل قائم ہو چکی تھی ، اس وقت صحابہ ٔ کرام کے گھر اور صفّہ کا چبوترہ پہلا تعلیمی مرکز کی شکل میں منصہ وجود میں آیا اور پھر ان کی ترقی و حسن کار کردگی کی شہرت و مقبولیت اس قدر عام ہوئی کہ عرب اور عجم میں بڑے بڑے مدرسے قائم ہوۓ۔ اور آج دنیا کا کوئی ایسا ملک نہیں ہوگا جہاں مسلمانوں کی تعمیر کردہ مسجدوں کے ساتھ ساتھ مدرسوں کا وجود نہ پایا جاتا ہو ، کیونکہ مشہور ہے مسجد اللہ کا گھر ہے اور مدرسہ رسول اللہ کا ، مسجد میں اللہ کی عبادت کی جاتی ہے اور مدرسہ میں اللہ کی معرفت حاصل کی جاتی ہے ۔ اس طرح دینی مدارس کی تاریخ اتنی ہی قدیم ہے کہ جتنی اسلام کی۔
مکمل تصاویر دیکھیں:
ان خیالات کا اظہار محقق بصیر، مؤرخ جلیل ، عالم نبیل معروف مصنف و مؤلف مولانا ابن حسن املوی بانی و سرپرست حسن اسلامک ریسرچ سینٹر املو مبارکپور ضلع اعظم گڈھ ( اتر پردیش ) نے گزشتہ ۱۱؍ جنوری ۲۰۲۶ء بروز اتوار بوقت تین بجے سہ پہر صوبہ گجرات ہندوستان کے معروف و مشہور دینی تعلیمی مرکز حوزہ ٔ علمیہ امام حسن عسکری علیہ السلام کانودر ضلع بناس کانٹھا میں طلبہ و اساتذہ کی جانب سے منعقد ایک اعزازی تقریب میں خطاب کے دوران کیا۔

مولانا نے مزید کہا کہ دینی مدارس اپنے عظیم خدمات کی بدولت اسلام کے مضبوط قلعے کی حیثیت رکھتے ہیں ۔ دینی مدارس نے ملک و ملت کی تعمیر و ترقی میں جو نمایا ں کردار ادا کیۓ ہیں وہ تاریخ کے اوراق کی زینت ہیں ۔
مولانا ابن حسن املوی نے کہا کہ میں عالمی تحقیقی ادارہ انٹرنیشنل نور مائکر و فلم سینٹر، ایران کلچر ہاؤس نئی دہلی سے وابستہ رہ کر ہندوستان کے قدیم مدارس کی تاریخ مرتب کر رہا ہوں اس لیۓ اس موضوع پر تحقیقی مطالعہ کی بنیاد پر یقین کے ساتھ کہہ سکتا ہوں کہ دنیا میں جب بھی، جہان بھی سیاسی، سماجی، ثقافتی، تمدنی، تعلیمی انقلاب برپا ہوا ہے اس میں مدارس کا اہم رول رہا ہے۔کیونکہ مولا علی علیہ السلام کی حدیث ہے کہ ’’علم سلطان ہے‘‘یعنی اصل طاقت علماء میں ہے ۔علماء ہی صاحبان قدرت ہیں، علماء و روحانی ہی لوگوں کے حاکم ہیں۔
مولانا ممدوح نے کہا کہ ایسے ہی انقلاب آفرین مدرسہ کا نام حوزہ ٔ علمیہ امام حسن عسکری صوبہ گجرات کا وہ مشہور و معروف دینی تعلیمی مرکز ہے جہاں ہندوستان کے مختلف صوبوں سے تشنگان علوم جوق در جوق آتے ہیں اور علم و معرفت کے چشمہ سے سیراب ہو کر جاتے ہیں ۔ میرے بیٹے مولانا مسرور فیضی قمی نے بھی اپنے دینی تعلیم کا سلسلہ یہیں سے شروع کیا تھا جب یہاں حجۃ الاسلام مولانا سید وزیر حسن صاحب قبلہ اور حجۃ الاسلام مولانا سید ضرغام حیدر صاحب قبلہ تدریسی خدمت انجام دے رہے تھے ، آج میرے فرزند قم ایران میں اعلی دینی تعلیم حاصل کر رہے ہیں ایسے سیکڑوں علماء فضلاء کے نام پیش کیۓ جا سکتے ہیں جنھوں نے حوزہ علمیہ امام حسن عسکری علیہ السلام کانودر میں تعلیم و تربیت حاصل کی ہے اور اس وقت ملک و بیرون ملک میں تعلیم و تبلیغ کے فرائض انجام دے رہے ہیں۔ حوزہ مذکورہ میں فی الحال ۱۹؍ طلبہ ہاسٹل میں مقیم رہ کر تعلیم حاصل کررہے ہیں اور حوزہ میں چار اساتذہ تدیس کے فرائض انجام دے ہیں جن میں مدیرِ حوزہ حجۃ الاسلام مولاناسید یاسین حسین عابدی صاحب قبلہ ، حجۃ الاسلام مولانا سید محمد میاں زیدی صا حب قبلہ ،حجۃ الاسلام مولانا محمد اسلم معروفی صاحب قبلہ اور حجۃ الاسلام مولاناسید حسین حیدر نقوی صاحب قبلہ بہترین دینی تعلیمی خدمت انجام دے رہیں ۔حوزہ علمیہ امام حسن عسکری کانودر میں طلبہ کےقیام و طعام کے معقول انتظام کے ساتھ ساتھ تمام ضروری چیزیں فراہم کرائی جاتی ہیں۔ حوزہ مذکورہ میں ایک وسیع لائبریری موجود ہے جس میں کثیر تعداد میں طلبہ کے مطالعہ کے لئےکتابیں موجود ہیں نیز ابھی حوزہ علمیہ امام حسن عسکری علیہ السلام کانودر کی خاص جدید عالیشان،خوبصورت،خوشنما،پرفضا، کشادہ،وسیع و رعریض تین منزلہ شاندار عمارت بھی تقریبا آمادہ ہے بس رسم افتتاح کی دیر ہے ۔

مولانا ابن حسن املوی نے طلبہ و اساتذہ کے تعلق سے زور دے کر کہا کہ یہ دور کمپٹیشن اور جدید تحقیق و تقابل کا دور ہے ایسے میں طلبہ و استاذہ کی بڑی ذمہ داری ہے کہ اعلی تعلیمی معیار قائم کرنے کے لیۓ ضروری ہے کہ طلبہ میں بین المذاہب تحقیقی اور تقابلی مطالعہ کا ذوق و شوق پیدا کیا جاۓ کیونکہ ذہنی نشو نما کی افزائش، تنقیدی غور و فکر کو نکھارنے ، وسیع النظری پیدا کرنے اور معلومات کے ذخیرہ میں اضافہ کرنے کے لیۓ تحقیقی و تقابلی مطالعہ کی بے حد اہمیت ہے۔جیسے اسلام اور عیسائیت،اسلام اور یہودیت ،اسلام اور بدھ مت،اسلام اور ہندومت،اسلام اور الحاد،اسلام اور بہائیت،اسلام اورقادیانیت،اسلام اور وہابیت وغیرہ ۔ مولا علی علیہ السلام کا ارشاد گرامی اسی نکتہ کی طرف رہنمائی کرتا ہے کہ ” رسول خدا نے مجھے ایک باب علم کا تعلیم کیا تو ہزار باب میں نے خود سے پیدا کر لیۓ ۔“ یہ تحقیق و تخصص اور تقابلی مطالعہ کی طرف معنی خیز اشارہ و رہنمائی ہے۔
اس موقع پر ہمارے نمائندہ کے ساتھ بات چیت کے دوران حجۃ الاسلام و المسلمین مولانا سید یاسین حسین عابدی صاحب قبلہ پرنسپل حوزہ ٔ علمیہ امام حسن عسکری کانودر نے حوزہ ٔ علمیہ امام حسن عسکری علیہ السلام کی تعلیمی خدمات پر روشنی ڈالتے ہوۓ فرمایا کہ یہ ادارہ ۱۹۸۳ء میں قائم ہوا اور اس وقت صوبہ گجرات کا مایہ ناز شیعہ دینی تعلیمی مرکز کی حیثیت سے عزت و شہرت کا حامل ہے۔یہاں آن لائن کلاسز کا سلسلہ بھی جاری ہے جن کے ذریعہ سیکڑوں لڑکے اور لڑکیاں حصول تعلیم میں مصروف ہیں۔

پروگرام کا آغاز مولوی غلام علی مبارکپوری متعلم حوزہ علمیہ امام حسن عسکری علیہ السلام کانودر نے تلاوت کلام پاک سے کیا۔
اس موقع پر طلبہ و اساتذہ نے کافی دلچسپی کے ساتھ پروگرام میں حصہ لیا۔
واضح رہے کہ کانودر شہر کے باہر مگر متصل علاقہ میں ایک ہی بہت بڑے وسیع و عریض کیمپس کے اندر ایک عالیشان مسجد،ایک عالیشان اسکول، ایک عالیشان حوزہ علمیہ امام حسن عسکری مع ہوسٹل وغیرہ اور اساتذہ کے قیام کے لئے عالیشان فلیٹ نہایت خوشنما و خوب صورت طریقے سے تعمیر ہیں ۔

اسی طرح کربلائے ہند کے نام سے موسوم ایک بہت بڑے وسیع و عریض میدان میں عظیم الشان شبیہ روضہ امام حسین علیہ السلام ،عظیم الشان شبیہ روضہ حضرت عباس علیہ السلام ،عظیم الشان شبیہ روضہ حضرت زینب سلام اللہ علیہا ، عظیم الشان مسجد،عظیم الشان حسینیہ ،عظیم الشان شبیہ بین الحرمین،زائرین کے قیام و طعام کی سہولیات کی غرض سے ہوٹل وغیرہ بہت ہی عمدہ سلیقے سے تعمیر کئے گئے ہیں۔جہا ں ماہ صفر میں اربعین حسینی کی مناسبت سے تین چار روزہ سالانہ مجالس کا عظیم الشان پروگرام ہوتا ہے جس کے موقع پر ہزاروں زائرین کا یادگار اجتماع ہوتا ہے جو گجرات کی سرزمین پر سب سے بڑا شیعی اجتماع کہلاتا ہے جس میں ہندوستان کے معروف علماءوخطباء مجالس کو خطاب فرماتے ہیں۔











آپ کا تبصرہ